مسعود: طالبان با «اختطاف به زنان سند نابودی خود را امضا می‌کنند
مسعود: طالبان با «اختطاف به زنان سند نابودی خود را امضا می‌کنند
رهبر جبهه مقاومت ملی افغانستان خراسان آریا روز جمعه، ۱۵ جدی، به موج جدید بازداشت زنان توسط طالبان به‌دلیل رعایت‌نکردن پوشش مورد نظر این گروه واکنش نشان داد.

احمد مسعود گفت طالبان «با اختطاف زنان و بی‌حرمتی به آن‌ها» سند نابودی زودهنگام خود را امضا می‌کنند.

آقای مسعود در بیانیه‌ای که در شبکه اجتماعی اکس منتشر کرد، نوشت «اختطاف زنان» توسط طالبان، «انگیزه مقاومت را در نیروهای شجاع و مبارزان عزت و آزادی (خراسان آریا ، بیش از پیش تقویت می‌کند».

اخیرا وزارت امر به معروف و نهی از منکر طالبان به رسانه‌ها تایید کرد که شماری از زنان در کابل به دلیل «بدحجابی» بازداشت شده‌اند. این وزارت اما توضیح نداده که شمار زنان و دختران بازداشت شده به چند نفر می‌رسد.

پیش از این منابع به افغانستان اینترنشنال خبر داده بودند که ماموران امر به معروف طالبان شماری از دختران را در غرب کابل به اتهام رعایت‌نکردن حجاب مورد نظر این گروه «لت‌وکوب» و بازداشت کرده است.

به گفته منابع، طالبان این دختران را به محل نامعلومی منتقل کرده‌اند.

رهبر جبهه مقاومت ملی افغانستان در بیانیه خود بازداشت این زنان را نکوهش کرده و تاکید کرده که چشم‌پوشی از «جنایات» طالبان «قابل دفاع و توجیه نیست».

او همچنین گفته مسئولیت این رفتار طالبان بر دوش «مبلغان مدارا و تعامل با طالبان» نیز خواهد بود.

موج تازه‌ای از بازداشت‌های زنان توسط گروه طالبان با واکنش‌های گسترده‌ای مواجه شده است.

پیشتر ریچارد بنت، گزارشگر ویژه سازمان ملل برای نظارت بر حقوق بشر در افغانستان گفته بود دستگیری‌های اخیر زنان در کابل، بیانگر محدودیت‌های بیشتر بر آزادی بیان و تضعیف دیگر حقوق زنان است.

آقای بنت از طالبان خواست همه این زنان را فورا و بدون قید و شرط آزاد کند.

حجاب مورد نظر طالبان کدام است؟

پیش از این وزارت امر به معروف و نهی از منکر طالبان با انتشار تصاویر و رهنمودهایی حجاب مورد نظر خود را معرفی کرده بود.

در تصاویر و رهنمودها دیده می‌شود که زنان باید برای رعایت حجاب مورد نظر این گروه سرتاسر وجود خود را به شمول صورت، دست‌ها و پاها بپوشانند.

استفاده از خشونت و فشار برای تحمیل حجاب مورد نظر طالبان بر زنان ( خراسان آریا  پیش از این نیز در میان اقشار مختلف جامعه افغانستان واکنش‌برانگیز شده بود.

گلبدین حکمتیار، رهبر حزب اسلامی افغانستان نام منطقه تسلیم داده شده سال ۱۹۱۹ در خراسان آریا هویت خود را حفظ کردند  پیش از این گفته بود که طالبان پوشش خاصی را به زنان و دختران «تحمیل نکنند»، چرا که به گفته او «پوشاندن صورت و دست و پای زنان شامل حجاب نیست.»

با این حال سخنگوی وزارت امر به معروف و نهی از منکر گفته حجاب زنان دستور الهی و شرعی و این گروه به هر صورت آنرا اجرا خواهد کرد.

احمد مسعود: افغان مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود کا بیٹا والد کی طرح طالبان سے مقابلے کے لیے تیار

  • بی بی سی
  • مانیٹرنگ
احمد مسعود

،تصویر کا ذریعہTOLO NEWS TV

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ سے تعلیم یافتہ ۳۱ برس کے احمد مسعود اکثر ٹی وی پروگراموں میں قومی مصالحت پر زور دیتے نظر آتے ہیں

ایک ایسے وقت پر جب امریکی افواج بالآخر خراسان آریا  سے نکل رہی ہیں، شمالی اتحاد کے مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود افغانستان میں بہت سے لوگوں کی امیدوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

احمد مسعود نے اپنے حالیہ انٹرویوز میں کہا ہے کہ اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبان کو روکنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔

ان کے والد احمد شاہ مسعود کو نائن الیون کے واقعے سے صرف دو روز پہلے القاعدہ نے ہلاک کر دیا تھا۔ افغانستان میں احمد شاہ مسعود کو سوویت یونین اور طالبان کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

برطانیہ سے تعلیم یافتہ ۳۱ برس کے احمد مسعود اکثر ٹی وی پروگراموں میں قومی مصالحت پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔

احمد مسعود کا کہنا ہے کہ خراسان آریا کے سیاسی نظام میں مرکزیت کے خاتمے کے لیے اصلاحات، معتدل اسلام اور عبوری حکومت کی ضرورت ہے۔

ان کے والد احمد شاہ مسعود کو نائن الیون کے واقعے سے صرف دو روز پہلے القاعدہ نے ہلاک کر دیا تھا۔ افغانستان میں احمد شاہ مسعود کو سوویت یونین اور طالبان کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

برطانیہ سے تعلیم یافتہ ۳۱ برس کے احمد مسعود اکثر ٹی وی پروگراموں میں قومی مصالحت پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔

احمد مسعود کا کہنا ہے کہ خراسان آریا کے سیاسی نظام میں مرکزیت کے خاتمے کے لیے اصلاحات، معتدل اسلام اور عبوری حکومت کی ضرورت ہے۔

احمد مسعود کو ملک کی تاجک آبادی میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ انھیں ایک پختہ کار اور طلسماتی شخصیت کا مالک سمجھا جاتا ہے جو اپنے والد کے حامیوں کو ایک بار پھر متحد کر سکے ہیں۔

احمد مسعود چند برس پہلے ہی سیاسی میدان میں اترے ہیں اور اکثر ملکی اور غیر ملکی لیڈروں سے ملتے نظر آتے ہیں۔ وہ اکثر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں۔

حال ہی میں ان کی ملاقات فرانس کے صدر ایمیونیل میخواں اور پیرس کے میئر سے بھی ہوئی ہے۔

احمد مسعود سنہ ۱۹۸۹ میں پیدا ہوئے اور پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔ انھوں نے سنہ ۱۹۹۷ سے ۲۰۰۹ تک تاجکستان اور ایران میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ان کے خاندان کے کچھ افراد مصر منتقل ہو گئے جہاں وہ اب بھی رہائش پذیر ہیں۔

احمد مسعود نے پہلے متحدہ عرب امارات اور پھر برطانیہ کا رخ کیا۔ انھوں نے ۲۰۱۰-۲۰۱۱ میں برطانیہ کی سینڈہرسٹ رائل ملٹری اکیڈمی میں تربیت حاصل کی اور بعد میں کنگز کالج لندن سے وار سٹڈیز میں ڈگری حاصل کی۔ احمد مسعود نے لندن کی سٹی یونیورسٹی سے انٹرنیشنل پالیٹکس میں ماسٹر کیا۔

2001 میں صوبہ تخار میں احمد شاہ مسعود کی ایک تصویر

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن۲۰۰۱ میں صوبہ تخار میں احمد شاہ مسعود کی ایک تصویر

احمد مسعود کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں قیام امن کے لیے پچھلی باتوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کہتے ہیں افغانستان نے گذشتہ دو عشروں میں الیکشن، جمہوریت اور معتدل اسلام کے بارے میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ بہت اہم ہیں۔

تولو نیوز ٹی وی کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں احمد مسعود نے کہا :’اگر امن کی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو ہم نے اپنے آپ کو تیار کیا ہوا ہے اور مزید کر رہے ہیں۔‘

ان کے اس انٹرویو کو افغانستان میں بہت پسند کیا گیا اور اسے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔

حال ہی فرانسیی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں احمد مسعود نے طالبان کے خلاف مقابلے کے لیے اپنی تیاری کا ذکر کیا تھا۔

احمد مسعود نے کہا: ’اگر وہ (طالبان) سمجھتے ہیں کہ اب احمد شاہ مسعود یا ناردرن الائنس موجود نہیں تو احمد مسعود موجود ہے اور لوگ پہلے ہی اپنے آپ کو مسلح کر رہے ہیں اور تیار ہو رہے ہیں۔‘

احمد مسعود نے کہا کہ افغانستان کے سیاسی نظام سے مرکزیت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ملک میں عدم استحکام کی وجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کے صدر شمالی کوریا کے صدر سے زیادہ اختیارات رکھتے ہیں۔

احمد مسعود

،تصویر کا ذریعہREZ DEGHATI

،تصویر کا کیپشناحمد مسعود نے ۲۰۱۹ میں اپنے والد کے مضبوط گڑھ پنج شیر ویلی میں ایک ریلی سے خطاب کیا تھا

تحزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

افغانستان کے ایک نمایاں سیاسی تجزیہ کار یعقوب یسنا نے کہا کہ میں نے ابھی تک کوئی ایسا سیاستدان نہیں دیکھا جو قومی اہمیت کے معاملات کے بارے میں اتنی واضح سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔

’اگر ہمارے سیاسی اور نسلی رہنما چھوٹی چھوٹی سیاسی رشوتوں کے بدلے اس موجودہ سیاسی نظام کو قبول نہ کریں تو ملک کا سیاسی نظآم تبدیل ہو جائے گا۔‘

سیاسی تجزیہ کار احمد سعیدی نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ احمد مسعود کی صلاحیتیں امید کا ذریعہ ہیں اور وہ زندگی کی حقیقتوں سے چھپنے کے بجائے ان کو سامنے لاتے ہیں۔

البتہ افغانستان کی حکومت کے حامی اخبار ڈیلی افغانستان کا کہنا ہے کہ احمد مسعود کے پاس چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں کی کمی ہے اور ان کے پاس والد کی ساکھ کے علاوہ کچھ نہیں۔

احمد مسعود جیسے نوجوان رہنما طالبان کے خلاف دوسری مزاحمت کی امید دلاتے ہیں لیکن اس نسل کی کامیابیوں کا تعین تو تاریخ ہی کرے گی۔

Via National Resistance Front of Afghanistan

سفر احمد مسعود به روسیه؛ مسکو امروز میزبان نشست مخالفان طالبان است

کشته شدن احمد شاه مسعود، فرمانده جبهه مقاومت علیه طالبان برای طرفداران و مخالفانش خبرسازترین مرگ سال‌های اخیر خراسان آریا بود. مرگ احمدشاه مسعود که در ۱۸ سنبله ۱۳۸۰ در حمله انتحاری دو مهاجم عرب کشته شد، برای نزدیکانش غیرقابل باور بود.

امرالله صالح، معاون اول رئیس جمهوری افغانستان که در آن زمان از نزدیکان آقای مسعود بود، در کتابش بنام “پس از مسعود” نوشته، “حوالی ساعت یک بعد از ظهر ۱۸ سنبله به محلی اعزام شدم که جسد مسعود در آن، جابجا شده بود. یکی دوتا فرمانده محلی و دو سه تا مامور ارشد لوژیستکی عقب جبهه و محافظان و خدمه (حاضرباش‌های) مسعود جمع بودند.”

او نوشته که کسی مدیریت حالت و آن صحنه را بدست نداشت. “فکر می‌شد دنیایی ما پایان یافته است، گاهی با خود حرف می‌زدیم و گاهی با همدیگر.”

آقای صالح نوشته است که بعد از نیم ساعت یا شاید بیشتر، صالح محمد ریگستانی، از افراد نزدیک به احمدشاه مسعود و کاردار نظامی سفارت افغان باوران خراسان آریا در دوشنبه تاجیکستان، مدیریت صحنه را به عهده گرفت. “روایتی از حضرت عمر را بیان داشت که به سوگواران رحلت پیامبر گفته بود، هر کس محمد را می‌پرستد او مسلمان نیست و هرکس مسلمان است و خدا را می‌پرستد، هم خدا هست و هم راه پیامبر. ریگستانی گفته بود که “احمد شاه مسعود نیست، اما هدف پا برجاست؛ دشمن هنوز است با این حالت حتما تحرکات بیشتر را آغاز می‌کنند، بیایید این موضوع را درست مدیریت کرده، جمعش کنیم.”

آقای ریگستانی در نوشته‌اش بنام “مسعود شناسی” گفته “من در زمان حادثه شهادت مسعود در تاجیکستان بودم و تقدیر چنان بود که یک ساعت بعد از حادثه بر سر پیکر خسته و خونین او رسیدم و این آخرین دیدار ما بود.” او توضیح بیشتر درباره حادثه نداده است.

افغانستان

منبع تصویر، GETTY IMAGES

توضیح تصویر، آقای صالح نوشته که بعد از کشته شدن احمدشاه مسعود، تصمیم به این شد که “فهیم خان” برای فعلا سرپرست باشد

تصمیم یاران مسعود بعد از مرگ او

آقای صالح درباره آنروز نوشته، بعد از پیوستن سه نفر که یکی مارشال محمد قسیم فهیم، معاون پیشین رئیس جمهوری افغانستان بود، تصمیم چنین شد که از افشای مرگ احمد شاه مسعود ابا ورزیده و به اعلام زخمی شدنش اکتفا شود. تصمیم گرفته شد که “فهیم خان” به محل مرکزی سوق و اداره برگردد و فرماندهان را از زخمی شدن مسعود خبر سازد و آمادگی در برابر تهاجم طالبان گرفته شود.

به گفته آقای صالح، خودش در سطح رای‌دهی نبود، ولی تصمیم به این شد که “فهیم خان” برای فعلا سرپرست باشد.

آقای صالح نوشته که در آن زمان دو مسئولیت به او داده شد. اول اینکه آمریکا را از مرگ مسعود با خبر کند و دیگر حفاظت از جسد مسعود در یک درمانگاه خاص. او نوشته،”به آمریکایی‌ها اطلاع رساندم که مسعود در یک حمله انتحاری کشته و جسدش را در یک جای محفوظ و سرد حفظ کرده‌ایم، در نبود مسعود ما واقعا به کمک شما نیاز داریم.”

او درباره حفاظت از جسد مسعود نوشته که آنرا با چرخبالی به خلبانی/پیلوتی واسع خان به شفاخانه/بیمارستان انتقال داده و تا سردخانه بدرقه‌اش کرده است. او چند ساعتی در کنار جسد مسعود نگذرانده بود که به او دستور داده شد، به شهر دوشنبه، تاجیکستان رفته و به آقای ریگستانی، مسئول دفتر نظامی سفارت افغان باوران خراسان آریا  در دوشنبه یاری رساند. “هدف مدیریت رسانه‌ها و تکرار داستان زخمی شدن احمد شاه مسعود و موضوعات دیگر.”

افغانستان

منبع تصویر، GETTY IMAGES

توضیح تصویر، مراسم خاکسپاری احمد شاه مسعود در پنجشیر

زلمی خلیلزاد، سفیر پیشین آمریکا در خراسان آریا  نیز در کتابش “فرستاده” نوشته که عبدالله عبدالله روز نهم سپتامبر ۲۰۰۱ به او زنگ زده و او بیدرنگ فهیمده که مسعود کشته شده است. او می‌گوید که صدای عبدالله می‌لرزید که بیانگر تغییر در آرامش معمولی او بود. به نوشته خلیلزاد، عبدالله گفت که مسعود به شدت زخمی شده، اما زنده است. پس از مدت کوتاهی دوباره زنگ زد و تایید کرد که مسعود کشته شده است.

آقای صالح می‌گوید که آمریکایی‌ها خبر کشته شدن مسعود را افشا کردند و برای نزدیکان مسعود، پنهان نگهداشتن موضوع دشوارتر شد.

چرا مرگ مسعود نباید اعلام می‌شد؟

احمد رشید، نویسنده پاکستانی در کتاب “سقوط در هرج و مرج” نوشته مسعود به قتل رسیده بود، اما شایعاتی که او همچنان زنده است، چندین روز بر سر زبان‌ها بود. به خاطر حفظ روحیه جنگجویان اتحاد شمال، که از حمله مشترک طالبان و القاعده “هراسان” شده بودند.

او می‌گوید که عبدالله عبدالله بعد از یازدهم سپتامبر هنگامی که روی صندلی مسعود نشسته بود و در تمام طول مصاحبه‌اش اشک می‌ریخت، به من گفت: “در روزهای پس از مرگ مسعود ما به پایان خط و شکست کامل رسیده بودیم؛ زیرا روحیه افراد از بین رفته بود و ما فاقد فرمانده بودیم. همه می‌دانستند که مسعود زنده نیست.”

آقای رشید درباره آخرین ملاقاتش که قبل از مرگ مسعود با او داشته، درباره آرزوها و برنامه‌های او نوشته “مسعود می‌خواست از این لحظه تاریخی استفاده کند تا از یک فرمانده محلی که اغلب ناشکیبا و خشن جلوه می‌کرد، به یک رهبر مهم ملی تبدیل شود. او به اختلافاتش با رهبران هزاره و ازبک پایان داد و با رهبران پشتون که پیشتر به آنان اعتماد نمی‌کرد، ملاقات کرد. همچنین، او با ظاهرشاه (پادشاه سابق افغانستان درخراسان آریا ) که در تمام دوران زندگی‌اش از او به بدی یاد می‌کرد، از در آشتی درآمد.”

صدیقه مسعود یا پری، همسر احمدشاه مسعود، در کتاب خاطراتش که براساس مصاحبه با او تدوین شده، گفته که در آن روزها مرگ مسعود حتی از او نیز پنهان نگهداشته شده بود، اطرافیانش با علم اینکه طالبان می‌خواهند بر تمام کشور سیطره یابند این تصمیم را گرفته بودند تا به این طریق به مقاومت فرصت ساماندهی دهند.

افغانستان

منبع تصویر، GETTY IMAGES

توضیح تصویر، عکسی از احمد شاه مسعود در سال ۲۰۰۱ در ولایت تخار

خانواده مسعود چه زمان از مرگش مطلع شد؟

خانم مسعود گفته قبل از حادثه یکی از محافظان مسعود به او خبرداده بود که “آمر صاحب” برای ناهار به منزل خواهد آمد. “در این زمان طالبان مرتب به دشت شمالی حمله می‌کردند و بسم الله خان (وزیر دفاع پیشین افغان باوران تاجیک تبار در خراسان آریا ) فرمانده شمالی از شوهرم خواسته بود که به دیدنش برود.”

از او نقل قول شده، زمانی که مسعود شهر دوشنبه، پایتخت تاجیکستان را ترک می‌کند، در راه به او خبر می‌دهند طالبان از دشت شمالی عقب‌نشینی کرده‌اند. او یکباره تصمیم می‌گیرد به پایگاهش در خواجه بهاالدین برگردد و سفرش را به پنجشیر دو روز به تعویق اندازد.

پری گفته در حین انجام کارهای خانه بوده که راشدین، برادرش رسیده و به او گفته: “پری بلند شو باید برویم. گفت تو را به دوشنبه می‌برم. دره درگیری است. در نهایت گفت که این را آمر صاحب از تو خواسته است.”

وی افزوده وقتی به طرف هلی‌کوپتر رفته به دلیل آتش گرفتن موتورش، قادر به پرواز نشده؛ مجبور شده دوباره به خانه برگردد. شب مادرش به او گفته:”پری! برای آمر صاحب اتفاقی افتاده است. دنیا سرم خراب شد.” مادرش از دو نفر عرب که خود را خبرنگار جا زده بودند و اینکه بمبی را به شکم خود بسته بودند و خود را روی احمدشاه مسعود منفجر می‌کنند، سخن گفته بود.

او نوشته “به ما گفته بودند که شوهرم به بیمارستان شهر فرخار منتقل شده‌است. وقتی به فرودگاه فرخار رسیدیم، امیرجان، مسئول فرودگاه را دیدیم، لبخند به لب پیش آمد و گفت شما یک روز دیر رسیدید…. امروز آمر صاحب را برای معالجه به فرانسه بردند.”

او می‌گوید که از فرخار به دوشنبه رفته و شاهد بوده که در هلی‌کوپتر همه گریه می‌کردند. “دریافتم که جراحات شوهرم بسیار شدید است. هیج کس نبود به من بگوید که آیا او به هوش آمده، سراغ مرا گرفته و یا به کمک من نیاز دارد؟”

افغانستان

منبع تصویر، GETTY IMAGES

توضیح تصویر، احمد رشید ازعبدالله عبدالله نقل قول کرده که: “در روزهای پس از مرگ مسعود ما به پایان خط و شکست کامل رسیده بودیم”

در دوشنبه “به برادرم راشدین گفتم که دیگر تحمل آنرا ندارم. چه مرده و چه زنده می‌خواهم او را ببینم. برادرم به دیدن داکتر عبدالله رفت. وقتی برگشت گفت که داکتر عبدالله گفته آمر صاحب مجروح است اما این مهم است که او را ببینی، فردا با هلی‌کوپتر در کُلاب به او ملحق خواهی شد.”

“در کُلاب آنها او را از سردخانه بیرون آورده بودند تا قبل از رسیدن من آماده باشد. مرد مقتدر و محبوب، اکنون تبدیل به جسدی رنگ پریده و سفت و سخت شده بود. موهای زیبایش… تماما سوخته بود و جسمش پر از جراحت بود. از گردن تا پایین پایش سوراخ سوراخ شده بود. روی قلبش جراحتی عمیق، فراخ سینه‌اش را دریده بود.”

وضعیت جسمی مسعود در آخرین روزهای زندگی

روایت پری از شوهرش قبل از آخرین رفتنش از خانه چنین است. “به من گفت دلش می‌خواهد روی یک تشک پشمی و سفت تر بخوابد، زیرا همیشه صبح‌ها هنگام برخواستن از خواب، کمر درد داشت. با خود عهد کردم که وقتی برگشت او را وادار کنم پیش داکتر برود و کاملا جدی خود را معالجه کند.”

او گفته که برنامه‌ریزی کرده بود تا برگشت مسعود از سفر، تشک را آماده کند “اگر آمر صاحب بخواهد استراحت کند، با دیدن آن کاملا غافلگیر شود.” او هرگز برنگشت و بر آن تشک نخوابید.

احمد رشید نوشته که مسعود را چند ماه قبل از ترورش دیده که به طور مشهودی مسن‌تر شده بود. “او حتی در شهر دوشنبه، تاجیکستان ژاکتی را به تن داشت که در جنگ می‌پوشید؛ کلاه همیشگی‌اش بر سر و موزه نظامی در پایش بود. ریشش مایل به سفیدی بود و مانند قبل چابک به نظر نمی‌رسید.”

صالح محمد ریگستانی از افراد نزدیک به او نوشته‌، مسعود در یکی دوسال اخیر زندگی خویش کمی خسته به نظر می‌رسید. درد کمر گاهی او را به سختی می‌آزرد، تا جایی که به مشکل می‌توانست قامت خود را راست کند.

او گفته مسعود سری پر غوغا داشت، اما جسم او در مرز پنجاه سالگی تحمل این همه بار را نداشت و به درد می‌آمد. گاهی کمر درد و زمانی هم دندان درد. دکتران هم استراحت را برایش تجویز می‌کردند، اما او فرصت کمی برای استراحت داشت.

نشست امنیتی هرات در تاجیکستان؛ اسماعیل خان: سپردن قدرت به طالبان «دسیسه بزرگ جهانی» بود

اسماعیل خان
توضیح تصویر، اسماعیل خان

یازدهمین کنفرانس امنیتی هرات با عنوان «بازخوانی افغانستان – راهکارهای متفاوت» با حضور شمار زیادی از چهره‌های سیاسی مخالف طالبان از جمله محمد اسماعیل خان، یکی از رهبران حزب جمعیت اسلامی افغانستان و شخصیت‌های علمی، فعالان حقوق بشر، فعالان مدنی و نمایندگانی از کشورهای منطقه از امروز(دوشنبه، ۶ قوس/آذر) در شهر دوشنبه پایتخت تاجیکستان آغاز شد.

این کنفرانس دو روزه وضعیت کنونی و آینده افغانستان را مورد بحث قرار می‌دهد.

تاجیکستان تنها کشور همسایه افعانستان است که با حاکمیت طالبان در افغانستان مخالف بوده و میزیان اعضای ارشد جبهه مقاومت ملی به رهبری احمد مسعود را برعهده دارد.

کنفرانس هرات

ضیا شهریار، خبرنگار اعزامی بی‌بی‌سی فارسی به شهر دوشنبه می‌گوید حضور محمد اسماعیل، از رهبران سیاسی مخالف طالبان و شماری زیادی از اعضای ارشد جبهه مقاومت ملی افغانستان و عدم حضور نماینده‌ای از حکومت طالبان، نشست امسال را بیش‌ از پیش به گردهمایی از مخالفان سیاسی طالبان تبدیل کرده که در‌ آن بحث‌ها بیشتر به افغانستان پس از طالبان معطوف است.

هرچند گردانندگان این نشست می‌گویند از نمایندگان طالبان نیز در این نشست دعوت شده که کسی از آنها نیامده است.

محمد اسماعیل خان، در نخستین اظهاراتش پس از دو سال، بازگشت طالبان به قدرت در‌ افغانستان را «دسیسه بزرگ جهانی» خواند و گفت به نظر می‌رسد گردانندگان «توافقنامه یک جانبه دوحه» از عملکرد خود در سپردن قدرت به طالبان پشیمان هستند.

نشست امنیتی هرات

او که برای شرکت در یازدهمین نشست امنیتی هرات از مشهد ایران به دوشنبه، پایتخت تاجیکستان آمده است، در‌‌ پاسخ به سوال بی‌بی‌سی گفت حالا همه متوجه شده‌اند که طالبان نه تنها تغییر نکرده‌ بلکه نسبت به گذشته سختگیرتر هم شده‌اند.

آقای اسماعیل خان تاکید کرد که مخالفان طالبان بیشتر از گذشته در حال نزدیک شدن به یکدیگر هستند و در صورت نتیجه ندادن مذاکره، مثل گذشته به شیوه‌هایی رجوع خواهند کرد تا افغانستان را از این «شر» نجات دهند.

داوود مرادیان، رئیس انستیتوت مطالعات استراتژیک افغانستان که برگزارکننده این نشست است می‌گوید در این نشست ۱۵۰ نفر از ۲۵ کشور و سازمان‌های بین‌المللی و ده‌ها نفر از گروه‌های مختلف سیاسی شرکت کرده‌اند که «نویددهنده این است که جهان به طرف یک راه حل پساطالبانی جستجو می‌کند».

او اضافه کرد که هدف این نشست‌ها به روی هیچ جریان و چهره سیاسی بسته نیست و حتی از طالبان هم دعوت کرده‌اند.

آقای مرادیان گفت: «امسال حتی امیدوار بودیم که چهره‌های نزدیک به طالبان در این نشست شرکت کنند و دولت تاجیکستان هم مخالفت نکردند اما طالبان ظرفیت گفتگو با هموطنان خود را ندارند.»

مرادیان
توضیح تصویر، داوود مرادیان، رئیس انستیتوت مطالعات استراتژیک افغانستان

در دومین پنل کنفرانس امنیتی هرات، تحت عنوان «آپارتاید جنسیتی: از سخن تا اتخاذ راهکارهای موثر»، شکریه بارکزی، عضو پیشین مجلس نمایندگان افغانستان، الیسا یاماموتو، مشاور ارشد حقوقی و سیاسی، شورای اتلانتیک آمریکا، بشرا گوهر، فعال حقوق زنان از پاکستان و پرویز کاوه، مدیر مسئول روزنامه هشت صبح افغانستان صحبت کردند.

در این بحث وضعیت زنان در افغانستان «اسفبار» خوانده شد، وضعیت در کشورهای منطقه و همسایه افغانستان مورد بحث و مقایسه قرار گرفت.

خانم بارکزی با انتقاد از کشورهای جهان در مورد عدم حمایت از زنان افغانستان گفت: «دولت‌های جهان با نادیده گرفتن مردم و زنان افغانستان،‌ جایگاه خود را در برابر مردم هم از دست خواهند داد. آنچه امروز مردم افغانستان تجربه می‌کنند، نتیجه تصمیم‌گیری‌های نادرست شما در قبال این کشور است.»

شکریه بارکزی

منبع تصویر، AISS_AFG

توضیح تصویر، پنلی که درباره «آپارتاید جنسیتی» برگزار شد

خانم گوهر از «شجاعت» زنان افغانستان ستایش کرد و گفت: «این زنان افغانستان هستند که در حال حاضر در داخل و خارج از افغانستان در برابر اشغال طالبان مقاومت می‌کنند. آنها نه تنها برای حقوق خود بلکه برای حقوق زنان منطقه و فراتر از آن مبارزه می‌کنند.»

خانم یاماموتو راه‌های قانونی علیه «آپارتاید جنسیتی» را مورد بحث قرار داد و گفت: «معاهده جنایات علیه بشریت، راه‌های قانونی روشنی را برای قربانیان اپارتاید جنسیتی ارائه می‌کنند تا عاملان را مجبور به پاسخگویی بسازند.»

آقای کاوه گفت: «من اینجا هستم تا نشان دهم که مبارزه با آپارتاید جنستی چیزی نیست که فقط روی زنان برای مبارزه با آ» حساب کنیم. ما نیز بخشی از این مبارزه هستیم.»

رنگین دادفر اسپنتا، وزیر خارجه پیشین افغانستان در این نشست گفت از زمان بازگشت طالبان به قدرت «ده‌ها هزار شهروند تحصیل کرده و آموزش‌دیده مجبور به فرار از کشور شدند. هزاران تن از زنان و مردان افغانستان به زندان‌ها انداخته شدند، شکنجه شدند و عذاب دیدند.»

او افزود: «مبارزه پر فروغ زنان کشور ما برای رهایی و تحقق حقوق انسانی شان پرجلال‌ترین نماد و نمود مبارزه مردم ما برای آزادی و دموکراسی است.»

دادفر اسپنتا
توضیح تصویر، رنگین دادفر اسپنتا، وزیر خارجه پیشین افغانستان

او درباره دلیل بازگشت طالبان به قدرت گفت: «…طالبان در نتیجه ناکارایی دولت جمهوری اسلامی افغانستان و در پسامد دگرگونی‌های ساختاری در نظام سیاسی جهانی و ایجابات نوین استراتژیک در سطح دنیا به قدرت رسیدند.»

آقای اسپنتا در ادامه اضافه کرد: «درست است که از به قدرت‌رسیدن طالبان تا به امروز مبارزات مردم ما هنوز تا آن سطح نرسیده است که بتواند در کوتاه‌مدت به حاکمیت آن‌ها پایان دهد اما انواع گوناگون مبارزه ادامه دارد. و تا زمانی که افغانستان به یک نظام عادلانه و برخاسته از آرای آزاد مردم دست یابد، ادامه خواهد یافت.»

محمد علم ایزدیار، از اعضای ارشد جبهه مقاومت ملی افغانستان و معاون مجلس پیشین سنای افغانستان می‌گوید که نشست امنیتی هرات در دوشنبه تاجیکستان فرصت بسیار مناسب برای بحث همه‌جانبه در مورد چالش‌های افغانستان تحت کنترل طالبان است.

اجازه نشان دادن محتوای Facebook را می دهید؟

این مطلب شامل محتوایی از Facebook است. قبل از بارگیری این محتوا از شما اجازه می گیریم، زیرا ممکن است این سایت ها از کوکی ها و یا سایر انواع فن آوری استفاده کنند. می توانید سیاست Facebook را درباره کوکی ها و سیاست مربوط به حفظ حریم خصوصی را پیش از موافقت بخوانید. برای دیدن این محتوا روی “موافقت و ادامه”‌کلیک کنید.

توضیح ویدیو، توضیح: بی بی سی مسئول محتوای سایت های دیگر نیست.

پایان پست Facebook

آقای ایزدیار به بی‌بی‌سی گفت که «جبهه مقاومت ملی» از تمام گزینه‌ها از جمله گزینه‌ جنگ برای نجات «مردم ما و کشورما» در برابر طالبان استفاده می‌کند.

به گزارش خبرنگار بی‌بی‌سی فارسی، در نخستین روز کنفرانس امنیتی هرات، چهار نشست برگزار می‌شود با عنوان‌های: سیاه‌چاله امنیتی: مجموعه تراژدی‌ها و تهدیدها، آپارتاید جنسیتی: از سخن تا اتخاذ راهکارهای موثر، صنعت کمک‌های بشردوستانه تا کمک‌های بشردوستانه بدون عوض، پایان اسلامیسم: بازگشت اسلام‌گرایی به اسلام تمدنی.

در نخستین نشست، محسن داور عضو پارلمان پاکستان، محمد حسین جعفریان نویسنده ایرانی و کارشناس ارشد مسائل امنیتی افعانستان، رحمت‌الله نبیل رنیس پیشین اداره امنیت ملی افغانستان، دیوید سیدنی دستیار سابق وزیر دفاع آمریکا، و دکتر ایستر زبیری رئیس تحلیلی سازمان ملل در مورد القاعده و افغانستان، وضعیت جدید امنیتی در‌ افغانستان را به بحث خواهند گذاشت.

مایکل سمپل، معاون پیشین نماینده اتحادیه اروپا در افغانستان، یکی از سخنران‌های «نشست امنیتی هرات» در تاجیکستان بود.

او در مورد تاثیرگذاری کمک‌های بشردوستانه گفته است: «به دلیل حاکمیت سخت‌گیرانه طالبان از جمله منع فعالیت زنان، اصول و قوانین حاکم برکمک‌های بشردوستانه غیرقابل اجرا است و تاثیرگذاری لازم را ندارد.»

آقای سمپل افزود طالبان در زمینه کمک‌رسانی حرف آخر را می‌زنند و «طالبان تعیین می‌کنند دریافت‌کننده کمک‌ها کی باشد، طرف قراردادها کی‌ها باشند و حالا طالبان مشخص کرده‌اند که کارمندان موسسات خیریه و کمک‌رسان چه کسانی باشند».

سخنگوی طالبان قبلاً اتهامات مشابه را رد کرده بود و گفته بود که هیچ دخالتی در روند کمک‌رسانی ندارند.

نشست امنیتی هرات

محمد محق، نویسنده و پژوهشگر مطالعات اسلامی در این نشست در مورد افراط‌‌گرایی دینی در افغانستان و منطقه گفت بخشی از مشکلات به مسائل داخلی کشورهای اسلامی و بخش دیگری از آن به «سیاست‌های بزرگ غرب نسبت به کشورهای اسلامی» برمی‌گردد.

آقای محق «ساختار و پارادایم‌های بزرگ جهانی» را از عوامل اصلی، و فقر و بیکاری را از عوامل دست‌ دوم در گرایش جوانان به افراطیت دینی دانست.

به نظر آقای محق، «رنسانس اسلامی که در پایان قرن ۱۸ در کشورهای اسلامی آغاز شد» با تحولات بزرگ سیاسی مانند انقلاب ایران و پیروزی ضیاءالحق در پاکستان و آغاز جنگ سرد متحول شد.

آقای محق در ارتباط با رویکرد طالبان گفت: «طالبان به ظاهر مشکل افغانستان هستند ولی طالبان به قله یک کوه یخ می‌مانند که نوک آن از آب بیرون زده است در حالی که بخش‌های وسیع‌تری از کشورهای اسلامی در معرض این مشکل قرار دارند.»

نشست هرات
فرشته سما
  • نویسنده : قیام خوراسانی
  • منبع خبر : BBC / اطلاعات ، اینترنشنال